Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 13 - Jul 18
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
سوچ زار | Soch Zar2019 (Leisure) .
سوچ زار‘ مریم مجید ڈار کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اِن سے ابتدائی تعارف پچھلے سال ایک آن لائن ویب سائٹ پر ان کا افسانہ ”حرامی“ پڑھ کر ہوا تھا۔ اس کہانی کی فضا میں ایک گھٹن تھی۔ جوں جوں کہانی اختتام کی طرف بڑھتی ہے قاری پر طاری وحشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس انداز میں اختتام کی طرف بڑھتی ہے جو اس کی فضا کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
”آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا“۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔
سوچ زار کا پہلا افسانہ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا کے نام سے ہے۔ بظاہر یہ افسانہ بارگاہ ربی میں ازل کے سب سے بڑے، سنجیدہ اور ناقابل یقین واقعے کے مقدمے کی روداد ہے۔ یہ ایک ایسے ظلم کی داستان ہے جو بظاہر اس سے پہلے کسی مخلوق نے اپنی جان پر نہیں کیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ واقعہ مٹی سے بنی مخلوق کے ہمہ جہت رنگوں کی بنیاد بنا اسی طرح یہ افسانہ اس افسانوی مجموعے میں آنے والے تمام واقعات و حوادث کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ یہ افسانہ آدم و حوا اور ابلیس کی اس تکون کی داستان ہے جو اس دنیا میں ہونے والے حادثات کو مکمل کرتی ہے۔ خلیفہ ربی اور اس کی پسلی سے پیدا کی گئی حوا جب تک جنت میں رہے وہ ہر جگہ ایک ساتھ تھے۔ لیکن بارگاہ رب میں پیش کیے گئے اس مقدمے کے دوران آدم اور حوا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی یکتائی اب دوئی میں بدل گئی تھی۔ اب انہیں ایک فریق نہیں بلکہ الگ الگ فریق کے طور پر اپنا موقف بارگاہ رب میں پیش کرنے کا حکم ملا۔ جس طرح بارگاہ رب میں ہوئے اس مقدمے کے دوران حوا نے اپنے تجسس کے ہاتھوں عزازیل کے فریب میں آنے کا اعتراف کیا اور جس طرح عزازیل نے آدم کے ہاتھوں ہوئی تذلیل کا بدلہ حوا کے تجسس کو جلا دے کر لیا تھا۔ اسی طرح بنت حوا کے ساتھ روا رکھے جانے والا فریب اور تذلیل کو جابجا ان افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسانوں کے کردار ابن آدم کی ازلی معصومیت اور بنت آدم کی متجسسانہ فطرت کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ان کرداروں کے رویے، کارنامے، خیالات اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنائے گئے ہتھکنڈے کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جس طرح ویلز نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”لیژر“ (Leisure) میں دنیا کے حسین رنگوں بارے کہا ہے کہ ”وی ہیو نو ٹائم ٹو سٹینڈ اینڈ سٹیر“۔ اور جس طرح وہ اس نظم میں دنیا کے خوبصورت رنگوں اور خوشگوار احساسات سے روشناس کرواتا ہے، اسی طرح فاضل افسانہ نگارنے اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے ان پسے ہوئے، افلاس زدہ، کچلے گئے لوگوں کے دکھوں سے ہمیں متعارف کروایا ہے جو ہمارے آس پاس موجود تو ہیں لیکن رک کر انکے بارے جاننے کی ہمیں زندگی کی ہمہ ہمی میں فرصت نہیں ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔
”بکھی۔ کچھ تلخ سچ“ تیسرا افسانہ ہے جو کچی بستی میں رہنے والی بکھی کی کہانی ہے۔ بکھی دن کو بھٹے پر کام کرتی ہے تو رات کو اس کی کھولی میں پھیلی تعفن زدہ فضا شوکے جیسے کچی بستی کے دیگر مزدوروں کے جسمانی تناؤ کو پرسکون کرنے کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ بھٹہ مزدوروں کے تلخ شب و روز کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے بکھی اور اس کی جھونپڑی کو جنسی آلہ کار بنا کر پیش کیا ہے۔ افسانے میں بکھی کا تعارف ان لفظوں میں کروایا گیا ہے ” بکھی بھی اسی بھٹہ بستی کا حصہ تھی۔۔۔ کالی سیاہ۔۔۔ مانو کالی کا روپ۔۔۔۔بڑی بڑی کوری آنکھیں، اینٹوں کی تگاری مسلسل سر پہ اٹھانے سے اندر کو دھنستا ماتھا اور مکرانی کنڈل والے چڑے کے گھونسلے سے بال۔۔۔۔ مگر اس کے کالے سیاہ جسم سے جنسی وحشت ایسے بہتی تھی جیسے صحرا میں چشمہ ابلتا ہے۔۔ ناک میں تانبے کا بڑا سا بلاق پہنے، لنگی میں کسا بدن اور جب وہ اینٹیں ڈھوتی تھی تو اس کے کولہوں کی اٹھتی گرتی حرکت کو کم ہی سہار پاتے۔۔۔ آدھوں کے منہ سے رال بہ رہی ہوتی اور کئی اپنی لنگی بھینچ کے رہ جاتے“۔
ایسی تگڑی کاٹھی والی عورت ہی بھٹہ مزدوروں کا بار سہنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن شراب کے نشے میں دھت چار پانچ امیرزادوں کا بار سہارنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ کچی کھولی سے ایک این جی او والے صاحب کے بنگلے تک کا سفر کرنے والی بکھی کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ ان بھٹہ بستیوں میں پھیلی این جی او مافیا اور روزانہ کی روٹی کمانے والے بھٹہ مزدوروں کی سوچ اور زندگیوں میں تفاوت افسانے کو مزید گہرا بناتی ہے۔ پورے افسانے میں بکھی تو ہمارے سامنے کم عرصے کے لیے آتی ہے لیکن بکھی اور اس جیسے تمام بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں ہر سو پھیلی غربت اور بے بسی سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو ہم پورے افسانے میں دیکھ سکتے ہیں-
افسانہ ”حرامی“ محبت کا شکار بنی ہزاروں لڑکیوں کی داستان ہے لیکن افسانہ نگار نے جس طرح اس افسانے کا اختتام کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قاری کو اختتام پر پہنچتے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ساتھ والے کیبن سے آتی سسکاریوں کی آواز کے بہروپ میں عزازیل کا پھیلایا جال، محبت کی شکار بنت حوا کے تجسس کو جلا بخشتا ہے۔ اس تجسس کی اصلیت جاننے کے لیے بنت حوا ایک ماہر شکاری کا شکار تو ہو جاتی ہے لیکن ممنوع پھل کو چکھنے کی جس سزا سے وہ گزرتی ہے، وہ سزا صدیوں پہلے دی گئی اس سزا کی مانند ہے جو حوا کو دی جاتی ہے۔ جس طرح حوا کو جنت سے محروم کر دیا گیا تھا ویسے ہی بنت حوا کے قدموں تلے بنی جنت سے اس کو محروم کرنے کی داستان ایک سوگوار فضا بنا دیتی ہے۔ اس کہانی کا اختتام ایک بنت حوا کے لیے ایک تنبیہ لیے ہوئے ہے۔ ” عین اس لمحے جب کتا اس کے نومولود کا نرخرہ چبا رہا تھا، ماہر حرف ساز اپنے آرام دہ کمرے کی نیم تاریکی میں فون کان سے لگائے اپنی نئی محبوبہ کو سسکیوں والے ریستوران میں ملنے کے لیے رضا مند کر رہا تھا“۔ گو آدم نے سزا ملنے کے بعد بھی حوا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا لیکن آج کی دنیا میں اجتماعی غلطیوں کی سزائیں اور تکلیفیں زیادہ تر بنت حوا کو بھگتنی ہوتی ہیں جبکہ ابن آدم ماہر حرف ساز کی طرح لذت حاصل کرنے کے بعد خاموشی سے اپنا راستہ بدل کر کسی اور کی زندگی تباہ کرنے چل پڑتا ہے۔
آٹھویں افسانے کا نام ”پرایا ہاتھ“ ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ہیت اور تکنیک کے حوالے سے نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مردانہ ہاتھ کو بنایا گیا ہے۔ وہ ہاتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو چھو سکے۔ وہ ہاتھ جب کسی سیکریٹری کے بدن کو چھوتے ہوئے نئے راز تلاش کر رہا ہوتا ہے تو اس میں قدرے بے باکی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہاتھ جب ساتھ کام کرنے والی جونیر کی کمر کے گرد گھومنے لگتا ہے تو اس کی پیش قدمی جھجھک اور ڈر سے لبریز ہوتی ہے اور یہ ہاتھ اس قدر بے باک ہوتا ہے کہ اپنی مالکن کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ ہاتھ کا یہ تمثیلی استعمال افسانے کو دلچسپ بناتا ہے۔ اس افسانے میں کیا گیا تجربہ مزید گہرا اور وسیع ہو سکتا تھا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے افسانہ نگار افسانے کے مرکزی کردار کی طرح اسے ختم کرنے کی جلدی میں تھیں۔
بھوک اس دنیا پر بسنے والی جانداروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاپی پیٹ کی بھوک کو مٹانے کی خواہش انسان کو کس طرح بے بس، وحشی، بے حس اور مجبور کر دیتی ہے وہ بعض افسانوں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ افسانہ” پیٹ“ ایسی ہی غریب اور بے بس ماں کی داستان ہے۔ ماں جو اپنی اولاد کو گرمی اور حبس سے تڑپتی اور ٹھٹھرتی سردیوں میں مرتے نہیں دیکھ سکتی۔ اپنے بچوں کے لیے سڑک پار ایک کچی جھونپڑی ڈالنے کے لیے جس طرح کی محنت وہ کرتی ہے وہ ایک ماں کے ہی شایان شان ہے۔ بھوک اور غربت کی وجہ سے پیدا ہوئی بے بسی افسانہ ”لفافے کی موت“ میں پہنچ کر سفاکیت میں بدل جاتی ہے۔ یہی غربت اور بےبسی افسانہ ” اپنا اپنا جہنم“ میں آ کر اس بے حسی میں بدل جاتی ہے۔ سلطان کے ساتھ بیتا حادثہ ہمارے اجتماعی شعور پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ سلطان جیسا محنت کر کے عزت سے جینے والا شخص بس اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا۔ افسانہ ”حرامی“ انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کی بھوک کے اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس افسانوی مجموعے میں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کی پریشانیاں، غم، بھوک، درد اور تلخیاں بیان کی گئی ہیں، وہاں اس طبقے کی ہمت اور سفاکیت کی ظالمانہ حد کو بہت مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اپنے حرامی نومولود نواسے کے ناک پر ہاتھ رکھ کر قتل کرتی ہوئی نانی اور اپنے معذور بھائی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر شہہ رگ پر زنگ آلود قینچی پھیرتا بڑا بھائی نہ صرف سفاکیت کی انتہا پر ہوتا ہے بلکہ اس کی بے بسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ افسانے اس معاشرے کی فرسودہ اقدار، ظالمانہ روایات اور دوسروں کی زندگیوں کو اپنی لذت کی خاطر تباہ کرنے والوں کے خلاف ایک زبردست مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں عورت کے درد کو اس قدر گہرائی سے دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسانے نسائی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسانے بھوک، غربت اور بے بسی کے رنگوں میں رنگ کر ایک بوجھل، تعفن زدہ اور سوگوار فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ قاری جو خوبصورت انجام اور خوشگوار واقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے کے متمنی ہیں، ان کے لیے پیش لفظ میں انتباہ ہے کہ وہ ان افسانوں سے دور رہیں کیونکہ انہیں مایوسی ہوگ.
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.8 ★★★★★
Based on 737 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
Fallen Angels, fae, vampires, oh my!
Format: Kindle
Rating: 4.5 | Spice: 2 (but a good slow-burn)
•
Main Characters: Huntyr and Wolf
•
I couldn’t wait to read this book; there was so much hype about it! And there was no doubt why. I fell in love with the characters and the plot itself. This book is mainly plot driven more than friction driven but it’s easy to follow along with. The characters are fun, easily understood. The main setting is at an academy where both the main characters are going through trials and building strength for the final test, The Transcendent. There are fantastic side characters as well. I loved the camaraderie between Huntyr and her friends. But we don’t like Lanson. 😆
We do have some plot twists that come into play throughout the book. Secrets and betrayal to be seen. I did adore Wolf and Huntyr’s relationship. It was a classic slow burn trope. They didn’t hit it off fast, but in time their feelings grew. I loved their banter, so sexy. Wolf is your next book boyfriend; Huntyr is your next vampire assassin independent bad-a*s female. Themes include loyalty, trust, self-discovery, a true slow burn romance. Side note: book ends on a angsty cliffhanger!
•
Emily, thank you for writing this awesome novel and I cannot wait to devour Book 2, Blood So Brutal! 😍
•
Happy reading, my lovelies! xo
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 21, 2024
★★★★★ 4
“My heart bows to you and you only, Huntress.”
Format: Kindle
3.5 🌟
This book popped up in my KU recommended reading suggestions and the synopsis sounded like what I was in the mood for. I'm so glad I took a chance on it. I went into this knowing absolutely nothing about it and ended up really liking it. I love when this happens.
The main characters are likeable and I easily found myself rooting for them. There is a mystery element to each of their backstories that I enjoyed watching unfold and can't wait to get more of. Wolf, in particular, has me fixated. Love him.
I found this to be an entertaining, addictive read with a plot that moves along at a good pace. It reads so easily I found myself very reluctant to put it down. Lots of twists and turns and the angst is there. A good set up for the next book to come, for sure.
My issues with this book....the dialogue feels a bit juvenile at times and there is a repetitive over use of a particular word phrasing that I found myself giving the ole eye-roll to. There are, without a doubt, some pretty cliche moments that gave me a bit of the cringe. I think this could've certainly 100% benefited from more depth regarding the world building. Perhaps the world building was sacrificed to keep the pacing quick? Just a guess. Also, the lack of consistency of character for the FMC was really evident and so she feels quite illogical at times.
Overall, this was a fun and enjoyable read that hit the spot well enough for me. That ending certainly has me impatiently pining for book 2!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 18, 2024
★★★★★ 3
Interesting take on the genre
Format: Kindle
True rating: 3.25 ⭐️
I enjoyed the fresh take on the genre. The best way I could describe the setting and world is an apocalyptic dystopian version of Farie where vampires, fae, and angles struggle to survive in what is left of the world. It was definitely interesting throwing the academy/hunger games aspect into this world as well.
Even though I guessed the final reveal early on in the book, I kept hoping I was wrong, and it would take a surprising turn. While the "plot twists" were a bit predictable to me, I still enjoyed the ride this book took me on.
Another downfall for me was the plot holes in the world building... I.E. if society has fallen and the world is in the aftermath of war, how are there trains running around the world? Just to take young adults to the trials to get into the golden city? How is the train maintained, the tracks clear, etc?
However, I did enjoy the FMC & MMC and thought they were fleshed out nicely. I also enjoyed the side characters but wish some were developed more like Ashalin (sp?). I do find myself rooting for the MCs to succeed and find happiness together, which is obviously an important aspect for romantasy.
Overall, was this an earth-shattering, mind-bending, terrific piece of literature? No. But was it the worst thing I've read this year? Also, no. This book has, to me, the bones of a great read & just needs a bit more to push it from an alright book to a great book.
Overall ratings:
Plot- 3.5⭐️
World building 3⭐️
Spice 2.5 🌶🌶
Main characters 4 ⭐️
Supporting characters 3.5⭐️
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 12, 2024
★★★★★ 5
great book
Format: Kindle
I am really excited to meet the author at the book retreat this month. I really enjoyed this world that she built and most of the female main character Huntress is so awesome. She goes through a lot in this book and the ending; wow! I wouldn't have even guessed. I highly recommend everyone to read this book.
I have been so lucky this year that almost all the books I have read have been, so far, 5 out 5 stars.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 2, 2026
★★★★★ 4
Fallen for the Fallen Angel – A Guilty Pleasure Worth Every Page
Format: Kindle
There’s something deeply irresistible about a dark academia or trial-based setting, a brooding and arrogant fallen angel, and a fierce heroine with enough sass to go toe-to-toe with him. Wings So Wicked is exactly that kind of book—and I devoured it in just a couple of days.
To be fair, the plot isn’t groundbreaking. If you’re looking for something fresh and innovative in terms of storyline, this might not be it. But if your reader heart beats faster at the mere mention of enemies-to-lovers, jealousy-fueled banter, magical trials, betrayals, and forbidden tension—you’ll feel right at home. It’s like catnip for those of us with this particular weakness.
The chemistry between the leads could have used a slightly slower burn to make the tension sizzle longer, but I still found myself completely invested in their dynamic. There are moments and phrases that feel a bit cheesy or underdeveloped, but honestly? I didn’t care. The vibes were exactly what I wanted.
This book isn’t trying to reinvent the genre—it’s here to give readers like me what we crave: high-stakes magical drama, angsty romance, and the thrill of watching a badass girl and her brooding counterpart clash and spark. If that sounds like your kind of story, Wings So Wicked will hit the mark.
Here’s hoping Book 2 turns up the heat and keeps the magic alive.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 20, 2025
recommand products
Electric Fuel Pump High Flow EFI Performance Universal Fit Aeromotive 18005-BGPL
802.43
Electric Fuel Pump High Flow EFI Performance Universal Fit Aeromotive 11219-BGPL
185.03
Fuel Pressure Sensor Performance Fuel System Universal Fit Aeromotive 17114-BGPL
132.87
Fuel Hose Fuel System Universal Fit Aeromotive 15306-BGPL
185.01
Fuel Tank Fuel System Vehicle Specific Fit Aeromotive 18427-BGPL
461.74