SKU: 41191815905

چین آشنائی | شاہ محمد مری | Cheen Ashnai | Shah Muhammad Marri

Sale price$540.00 Regular price$600.00
Save 10%

Pay in installments of $150.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 16 - Jul 21

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

چین آشنائی | شاہ محمد مری | Cheen Ashnai | Shah Muhammad Marri: : : : : : !! (: ) (: ) (: ) (:) (: ) !!(: ) : (: ) !!(: ) (: ) ! ! (:) 55 (:) (: ) For bidden city (: ) We are the overthrowers of emperors. [128] (: ) 5000 (: ) (: ) (: ) (: ) (: ) (:) () Convergence (: ) Pages 352

نام کتاب : چین آشنائی
مصنف : شاہ محمد مری
مبصر : مصباح نوید
موضوع : سفر نامہ
پہلی اشاعت: ۷۰۰۲ء
دوسری اشاعت: ۰۲۰۲ء
کچھ چٹکلے، کچھ شہ پارے،
کچھ دل سے ٹپکے شنگرفی انار دانے
’چین آشنائی، محض چین سے آشنائی نہیں ہے۔ اس سفر نامے کے کئی پرت ہیں۔ سیاسی، تاریخی، ثقافتی۔ اس سے بڑھ کر نسوانی حسن کو بے تحاشا سراہنے والی آنکھ ہے۔
’حسن اور ریجکشن!!دُھرفٹے منہ‘۔
(ص: ۰۲۱)
پریم کی شہنائی پر جھومتا دل بھی ہے اور اس دل کو اپنے وطن کی پسماندگی، نادیدگی، درماندگی رنجور بھی رکھتی ہے۔
شاہ محمد مری اس سفر نامے میں سوشلزم کا سہارا لے کر جی اُٹھنے والی قوم کی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کی بنیادوں پر لگی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی سرمایہ داری کی دیمک پر بھی نگاہ ہے۔
’سوشلزم کے سالن میں سرمایہ داری کی مرچیں کس قدر لگتی ہیں‘۔ (ص: ۷۵۲)
کیٹپلزم وہ آکاس بیل ہے جو ہرے بھرے درخت پر ایسا جالا بنتی ہے کہ اس پر درد مندی اور انسانیت کے شگوفے کھلنا بند ہو جاتے ہیں۔
اس سفر میں ہم رکاب چار سنگی ہیں۔ پانچویں ورچوئل سنگت کی چوڑیوں کی کھنک بھی ساتھ ہے۔ سب سے جاندار سنگت بھی یہی ہے جو اپنی غائب موجودی میں بھی موجودگی سے زیادہ حاضر رہی۔
’جیسے دو جام ٹکرائے ہوں، جیسے چوڑیاں کھنکی ہوں جیسے موتی کا دانہ فرش پر گر جائے۔(ص: ۵۱)
مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی سفر نامہ نگار چاہے حقیقی سفر کریں کہ خیالی۔ ہر سنگ میل پر ان کی گود میں ایک دلربا پکے پھل کی طرح آگرتی ہے۔
لیکن شاہ محمد مری دل کی ہتھیلیوں میں چھپا کر اپنی دلربا اپنے ساتھ لے گیا۔
یہ چمپا روح و دل مشکبار بھی کرتی رہی اور اشکبار بھی۔شاہ پنل اپنے سکالر، دانشور ہم راہیوں سے نگاہ بچا کر اپنے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کی نمی خشک کرتا رہا اور مسکراتا رہا۔
اپنے وطن سے دوری، اپنے اپنوں سے دوری اور پھر اپنے ’مرکز ثقل‘ سے دوری کیا کیا کربناک صورتیں پیدا کرتی ہیں ہم ان کا بھی نشانہ ہے۔(ص:۴۱)
یہ روداد محض ’دیکھتا چلا گیا‘ نہیں ہے۔ مصنف سوچتا ہے، نئے ابھرتے امکانات دیکھتا ہے۔ تجزیہ کرتا ہے، تقابلی جائزہ لیتا ہے۔
’اس جہاز میں ضیاء الحق کا فلسفہ مکمل طور پر نافذ تھا کہ یہاں مرد ہی مدد کی مہمان نوازی کر رہے تھے۔ ایئر ہوسٹیس آگے ’حلال کی کمائی‘ والی کلاس کو جلوے حلوے بانٹ رہی تھیں‘۔
چین میں عوام کی اکثریت کسی مذہب کو سرے سے مانتی ہی نہیں، علامہ اقبال کے فلسفے سے بالکل اُلٹ وہاں دین و سیاست پچاس برس سے جدا جدا ہیں،مگر اس کے باوجود سارے نظریہ پاکستان والے نوائے وقتیئے اس چنگزی والے ملک کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔(ص: ۹۱)
انسان کائنات کا سب سے بڑا پٹواری ہے۔ وہ آسمان بانٹنا ہے،زمین بانٹتا ہے، زیر زمین بانٹتا ہے، سمند ر بانٹتا ہے، دل بانٹتا ہے، پتہ نہیں اُسے اجتماعیت سے کیا بیر ہے؟ یہ کیوں نہیں کہتا کہ ہمار ایئر سپیس، انسانوں کی زمین!!۔۔۔(ص: ۲۴)
’لغت کے دو بد بخت الفاظ: ’میرا، تیرا‘۔ (ص: ۲۴)
’ارے ملاؤں میں بھی مسلمان ہوتے ہیں!!‘۔(ص: ۳۸)
دل میں بستا بلوچستان بھی گاہے گاہے زخم کی طرح ٹیس اُٹھاتا رہا۔
”ڈنڈے، چھڑیاں، چاقو، کلہاڑے، تلواریں۔۔۔ہم نے کیا کرنی تھیں یہ چیزیں، کہ ہمارا وطن ان بدبختیوں کا میوزم تھا“۔ (ص: ۲۸)
راستے میں فربہ بھیڑوں کے ریوڑ دیکھ کر اپنے وطن کی لاغری اور چراہوں کے ننگے زخمی پاؤں یاد آتے ہیں۔ چرواہاعوت نے کوٹ پتلون پہن رکھا تھا اور کندھے پر پانی سے بھرے مشکیزہ کے بجائے ریڈیو رکھا تھا۔مصنف کی حیرت دیدنی ہے اور دلدوز بھی۔
’ارے اس عورت نے تو جوتے پہن رکھے ہیں۔ جی ہاں! جوتے! اس کے کپڑے پھٹے نہیں ہیں‘۔ (ص:۸۸)
شاہ محمد مری اپنی تحریر کو بلوچ کے دل کی کسک اور بلوچی زبان کی ضرب المثل دونوں سے ایک نیا رنگ آہنگ دیتا ہے۔ دو بھائی اور تیسرا حساب۔ گھر میں حساب کتاب نہ ہو تو وہ گھر برباد ہو جاتا ہے۔
”55افراد پر مشتمل سفارت خانے میں بلوچ قوم کا ایک فرد بھی نہیں ہے“۔ (ص:۲۸)
چین کے ماضی میں طویل سلسلے شہنشاہت اور فیوڈلزم کے ہیں۔ محلات کا ذکر آتا ہے تو شیطان کی آنت کا خیال بھی آتا ہے۔ بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے شہرِممنوعہ کے امپیریل پیلس کی رسائی اب ٹکٹوں سے ممکن ہے۔
’ارے واہ، دل خوش ہوا۔ ظل الٰہی کے محل کا ٹکٹ دیکھ کر‘۔ (ص: ۰۰۱)
شاہی محلات For bidden cityکی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کیا خوب لگا کھاتے عنوان دئیے گئے کہ یہ عنوان ہی ساری کہانی بیان کر دیتے ہیں۔
’شہر ظلمات کو ثبات نہیں‘
’کیا کروں روؤں ہنسوں رقص کروں یا ماتم‘۔
’ملکہ نہاتی کیسے تھی‘۔
’بادشاہ کا مولوی‘۔
’ارے ابھی کہاں چل دئیے، ان محلات کا نام پڑھے بغیر میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ آپ کو نہ تو ان میں رہنا ہے نہ انہیں دیکھنا ہے نہ ان کے اندر کے مکینوں کے جاہ و حشمت کو بھگتنا ہے نہ ان کی تعمیر پر لاگت کا حساب لگانا ہے اور نہ ہی ان کوڑوں کا شمارکرنا ہے جو بیگار کرنے والے رعایا کی پیٹھ پر پڑتے تھے۔ نہ ہی ان اموات کی فہرست بنانی ہے جو اس جاں گسل مشقت سے ہوتی رہی تھیں‘۔(ص: ۶۰۱)
تفصیلات پڑھتے ہوئے آپ کو قحط زدہ پسماندہ اور افیونی چینوں کا ذلت بھرا ماضی سمجھ میں آجائے گا۔
”نوہزار نو سو ننانوے محلات پر مشتمل اس عمارت میں جو چیز بطور سیمنٹ استعمال ہوئی وہ لیس دار چاول اور انڈے کی سفیدی سے بنائی گئی تھی“۔
پھر ذہن کے دریچے میں اپنے وطن کی بدبختی کی تصویر بال بکھیرے نمودار ہوتی ہے۔
“We are the overthrowers of emperors”. [128]
”یہ بھی اچھا ہے کہ چینی قوم کسی منظم مذہب کی پیروکار نہیں وگرنہ وہ بھی لاہوریوں کی طرح ہر جابر شاہجاں اور شاطر اکبر بادشاہ کے سارے محلات کو اسلامی فنِ تعمیر قرار دیتے۔(ص: ۷۰۱)
ارتقاہی تہذیب کو زندہ رکھتا ہے۔ چائنہ کے کلچر کا بیانیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ کھانا یا خوراک انسانی نسل کی تہذیب ہے اور پکانا ایک آرٹ۔
”یہ لوگ 5000سے زائد ڈشیں پکاتے ہیں اورکھانے میں رنگ، خوشبو، ذائقہ، صورت، نیوٹریشن پر توجہ دیتے ہیں۔(ص: ۴۶۱)
چین کا ماضی فیوڈلزم اور بادشاہت کی ہولناکی ہوسناکی اور بے رحمی سے اس قدر لتھڑا ہوا ہے کہ گھن آتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ان کا گزرا ہوا کل ہمارا ’آج‘ ہے۔
’جو شخص غیر ملکی سکول میں غیر ملکی مضامین پڑھتا اسے غیر ملکی شیطانوں کے سامنے اپنی روح بیچنے والا تصور کیا جاتا تھا‘۔ (ص: ۲۷۱)
’پورے چین میں لازم تھا کہ لوگ اپنے سروں پر ہندو ملاؤں کی طرح چوٹی رکھیں۔ چوٹی کا نہ ہونا بغاوت تصور ہوتا تھا جیسے مغرب زدگی، کفر اور خدا سے بغاوت سمجھا جانا تھا۔
درحقیقت مذہب اور فیوڈلزم کو ہمیشہ عورت سے خطرہ رہا ہے۔ وہ عورت سے نہیں بلکہ اس کی زندگی کرنے کی بے پناہ شکتی سے ڈرتے ہیں۔
زمین پر بد صورتیاں بکھیرتا راکشس عورت کی سندرتا سے خوفزدہ رہتا ہے۔
فیوڈل چین عورتوں کو انڈر کنٹرول رکھنے کیلئے باقاعدہ نظریہ غلامی کی رواجی، روایتی آئین سازی کرتا نظر آتا ہے۔
’یہ بدبخت لوگ پیدائش کے وقت سے ہی لڑکی کو لوہے کے جوتے پہنا دیتے تھے۔ اس طرح پاؤں کی فطری نشوونما رُک جاتی تھی۔(ص: ۴۷۱)
یہ بدبختی اپنی دھرتی پر اس طرح اپنی انتہاء پر ہے کہ دماغ کی فطری نشوونما روکنے کے لئے نہ نظر آنے والے آ ہنی کنٹوپ کھوپٹریوں پر چڑھا دئیے جاتے ہیں۔
چینی عورت کو بارہ چودہ برس کی عمر میں طوائف یا داشتہ کے بطور فروخت کیا جاتا تھا۔ اگر شادی ہو جاتی تو شوہر کو ناخوش کرنے یا نرینہ اولاد پیدا نہ کرنے کی صورت اسے واپس والدین کے پاس بھیج دیا جاتا تھا۔ ساری شادیاں باپ منظم کرتے تھے۔ حتیٰ کہ دلہن دلہا نے شادی کے وقت تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہ ہوتا تھا۔ فیوڈل لوگ ایک سے زیادہ بیویاں کھتے اور داشتائیں ان گنت۔
فرمان سنتے جائیے، چاہے تو تائید میں سر دُھنیے کہ ہمارے سماج میں تو یہ فارمولے کچھ کمی بیشی کے ساتھ اب بھی لاگو ہیں۔
بیویوں کے لئے مشہور کہاوت تھی۔ ’اگر تم ایک کتے سے شادی کرو تو کتے کی پیروی کرو۔ اگر تم ایک مرغے سے شادی کرو تو مرغے کی پیروی کرو‘۔ (ص: ۶۷۱)
’عورتیں تین فرماں برادریاں کریں۔اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو باپ کی فرماں برداری کرے، شادی شدہ ہے تو خاوند کی اور بیوہ ہے تو بڑے بیٹے کی‘۔(ص: ۶۷۱)
بے حجاب عورتیں چائینہ میں بھی قدرتی آفات کا سبب بن رہی تھیں۔
کسی بھی قوم کو ذلت اور درماندگی کی چوکھٹ سے اُٹھانے میں اس کے لکھاری، دانشور اور اُستاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
’ادبی اور ثقافتی اُبھار کے نتیجے میں سینکڑوں نئے رسالے شائع ہوئے‘۔ (ص:۰۸۱)
چین کے فکری اُفق پر فروزاں تاروں میں نمایاں نام لوہسون، باجین، ماؤٹون،گوومورو ہیں۔ ان میں سے قطبی تارا لوہسون ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ لوہسون وہ ادیب اور دانشور تھا جس نے اپنی فکری قوت سے مردہ سماج میں روح پھونکی۔
’پاگل کی ڈائری‘ (لوہسون) کو جدید چینی فکشن کے اولین شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ چین کا فیوڈل معاشرہ آدم خوروں کا معاشرہ ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو کھا رہا ہے اور جو شخص اس آدم خوری کی نشاندہی کرے، پاگل کہلاتا ہے۔
’۷۱۹۱ء اور ۳۲۹۱ء کے درمیان پروفیسروں، طالب علموں، دانشوروں اور انقلابیوں نے تحریک چلائی کہ مغربی سائنس کلچر اور جمہوری اصولوں کو اپنایا جائے۔ ماوزرے تنگ، لانگ مارچ، ریڈ آرمی ان سب ناموں سے تو ’دیوار چین‘ کی طرح کان آشنا ہیں۔
ایک مقام پہ آکر ماوزے تنگ، کمیونسٹ پارٹی اور چین ایک ہی وجود بن جاتے ہیں۔ یہ لمحہئ نروان ہے، کایا کلپ ہے۔ گراں خواب چینی سنبھلنے لگے۔
’گراں خواب چینوں کو دیکھو، دوسروں کو جگاتے پھرتے ہیں، تقدیر نے جب جگا دیا تو کیا رنگ دکھائے، ان افیمیوں نے، ماؤ کا انقلاب، ڈینگ سیاؤپنگ کی ریفارم اوپن ینس، ایک ملک دو نظام، اب پھر سوشلزم، کیپٹل ازم کا Convergenceاور پھر نتیجے میں بے پناہ ترقی‘۔(ص: ۳۱۳)
”چین آشنائی“ ایسی کتاب ہے جو قاری کو مکمل اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔
بقول ڈاکٹر انوار احمد، ”چین آشنائی“ ایک طرف تو شاہ محمد مری کے افکار و نظریات کا مظہر ہے اور دوسری طرف مستقبل کی پاکستانی اُردُو کے اظہاری امکانات کا بے پناہ ذخیرہ ہے،
Pages 352
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 41191815905

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.9 ★★★★★
Based on 21 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
L
Verified Purchase
lcca exchange
San Leandro, US
★★★★★ 5
Glow and play - pups favorite!
Color: A) 2-Pack (2.5" Balls)
I can't say enough good things about this glowing fetch ball! It's perfect for outdoor play at night—my dog loves chasing it in the dark, and the bright glow keeps the fun going even after sunset. What really impresses me is the quality; this ball has withstood my pup's enthusiastic chewing (and believe me, he can demolish a regular ball in seconds). It’s durable and built to last, making it a fantastic investment for any dog owner. If you're looking for a fun nighttime activity, this glowing fetch ball is a must-have!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 15, 2026
A
Verified Purchase
Addie
Charlottesville, US
★★★★★ 5
My Dogs Favorite for throwing
Color: D) 2-Pack Lattice (3.25" Balls), Color: D) 2-Pack Lattice (3.25" Balls)
We brought our new adoptee home end of July, and I quickly had to find him replacements for his tennis balls because those balls are inherently abrasive and our yard has sand which gets in the fuzz and makes them extra abrasive and they were already causing tooth wear (our previous shepherd chewed tennis balls like gum for a week after his adoption, wore his teeth tips enough I noticed and I took them from him too but this guy didn't like the hand me down replacement, it was too big for his preference so I had to hunt down different ones for the current dog). I tried the glow in the dark Chuk It ones, but he doesn't like to carry them, or the smaller regular chukits... My current dog prefers these web style ones. I like glow in the dark stuff and it makes them easier to find in the evening or over night (if you have night adjusted eyes and not a lot of lights in the yard these are VERY glowy at night). Now I know he likes them I am thinking winter is coming and I may lose the glow color in the Michigan snow, so I'm here to order some in some in non snow camouflage because I want to be able to play in the winter without as much groping for hiding balls (literally he will chase and then snub any other balls in the yard I throw except the huge jolly ball but that isn't a fetch type ball, its a thrash toy. these are the only ones he will actually return for me to swap and throw indefinitely). I included video and a picture of them at the local beach. They float with enough above the water for maybe a few ants to use them as a flotation device, but take a bit of time to come to the surface when they splash down. I think brighter colors will help make them easier to find in the water as well as the snow. I think my dog likes them because the webbing design makes it easier to grip, even when slobbery his teeth can get a hold in the gaps (so can fingers haha) without slipping too badly. They also compress almost flat and boing back into shape and seem to be durable over at least 6 weeks of summer living in the yard, so far so good. They don't have a huge amount of mass so they don't whip super far but if you get a technique down you can get very reasonable distance on throws. He doesn't gnaw on them, so I can't speak to resistance to actual shearing attempts with teeth, just grab and chomp for fun, then holding in his mouth. My dog weighs about 68 lbs (we are trying to gain a bit), he is a German Shepherd, and this size fits him well (can't remember which size I got but usually Amazon shows what size the reviewer got near the title of the review. They're big enough I'm not worried he will accidentally swallow or choke on them, small enough his mouth fits them comfortably, his grip is secure because of the gaps, and he loves them. I suggest get two at least unless your pooch is super good about dropping it and letting you pick it up. With two, I can whip a ball, find the one he just dropped, and by the time he is back, I have the other one in hand. He knows I won't throw it unless he drops the one he just returned (I will wait for him to remember this), and this makes it way easier to play thow and bring it almost back (he often drops it at speed when he is nearly back to me so it rolls past me) without playing chase me for the toy... and makes reinforcing Drop It as an safe thing to do, like he isn't going to lose out if he drops the fun ball in his mouth, I have the second ball to mark (say YES!!! when he drops it) and immediately reward by throwing the ball I already had... he loves them enough that he thinks other balls are stupid so I don't want to throw a less cool ball to exchange for the cool ones haha Anyway hope this was helpful, Im off to order some of these balls in brighter colors for lake and snow visibility.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 20, 2024
M
Verified Purchase
Mark H. in the Garage
Battle Creek, US
★★★★★ 4
Fun Glow Balls for Night Play, Great Value
Color: A) 2-Pack (2.5" Balls)
The Chew King 2 Piece Glowing Fetch Balls are a solid, budget-friendly alternative to Chuck-It glow balls. While my pups prefer the mouth feel of the Chuck-It balls, these still provide bright, visible fun for dusk or nighttime play, and can even be used indoors with a flashlight to get the game going. Durable, glowing, and engaging—a good option for evening fetch sessions which always insures that our pups get a great night of rest.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 6, 2026
L
Verified Purchase
LH
Lake Worth, US
★★★★★ 5
Durable, Perfect Size, and Glows
Color: A) 2-Pack (2.5" Balls)
I bought these for my 23 pound Bojack (Boston Terrier/Jack Russel) mix and he absolutely loves them. He’s an aggressive chewer that has destroyed Kong toys. This ball has just enough flex or give in it that he can’t tear it apart as it compresses in on itself. After about 6 months it started to wear down and tear a bit by the hole so I just tossed it and gave him the other one. I’ll be buying more of these as they wear out over time.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 14, 2026
R
Verified Purchase
R. C.
Phoenix, US
★★★★★ 5
A Must for Nighttime Fetch!!
Color: A) 2-Pack (2.5" Balls)
These are an absolute Must!! We have an ESS who is nearly 2yo and destroys Every toy he has. For some reason, he doesn't try to annihilate these glow balls. If he chomps on them, it's just for a moment while he is bringing it back to you. Has just a little weight to them so it goes far enough when thrown and a nice bounce when we have to play in the house, due to weather. Wish the bright 'glow' held a little longer but stays dim for quite some time and overall, just Awesome! Also purchased the 'chuck it' brand and sent them back because these were so much better. Will be buying more, if ever needed, but haven't had to because they are So Durable.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 12, 2026

recommand products