Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 19 - Jul 24
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
عظیم ہمالیہ کے حضور | Azeem Humaliya Kay Hazor. : 4 12 2020
قمر خان
بھینس کی طرح کھلے میدانوں میں چرنے کے بعدتالاب میں نہانا بلکہ کیچڑ میں لت پت ہونا ، مالیوں کے باغ سے سیب اور گالیاں کھانا، دھوپ میں لیٹ کر جگالی کرنا اور سر شام ماں کے کوسنے اور ’’ڈوٹے ‘‘ کھا کر سو جانا۔ایسے شب و روز میں سفر کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ضرورتاً پنڈی جانا پڑتا تو منگ کے مقام پرقبضہ مخالفانہ چھڑانے کے لیے مارکھانا پڑتی اور دوچار میل کھڑے رہ کر سفر بھی کرنا پڑتا۔عقل آنے پر عالم یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہرمنگ پہنچنے پربا ادب کھڑے ہو جاتے۔’’آئیے جناب یہ سیٹ ہم پنڈی سے آپ کے لیے ریزرو کروا کہ لائے ہیں۔آئیے تشریف رکھیے ‘‘۔ پہلی بار کراچی جانا ہوا تو آغاز سفر میں ہی لڑائی ہو گئی۔نتیجۃً وزیر آباد کے مقام پر ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دے دلا کر جان چھوٹی اور تیسرے دن کراچی پہنچے۔اسی لیے سفر سے چڑ ہے۔ لہٰذا جب بھی سفر کیا بامر مجبور ی کیا۔ شوقیہ سفر کے ماروں سے ہماری کبھی نہیں بن پائی۔ ہمیں تو بھینس نما لوگ چاہئیں جو بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہ لیں۔مگر ہمارے بیٹھنے پر بھی بزرگوں کو اعتراض رہتا تھا۔ کبھی آملوک یا اخروٹ کے اونچے ، سوکھے ٹہنے پر بیٹھ گئے ،کبھی ’’ادھ کندی‘‘پر یا مکان کی چھت پر۔ بزرگ کہتے ’’کیوںکِلیوں پر انڈے دے رہے ہو‘‘؟ تب سے ہم نے ’’کِلیوں ‘‘کی بجائے سکول میں انڈے دینا شروع کر دیے۔ مگربرادرم جاوید خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے۔آج کا مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی تو یہ بھرم تادیر قائم رہتامگر حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔سفر ہمیں کسی صورت راس نہیں آتا۔ نیند اور تھکاوٹ سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ کھانے کو ڈھنگ کا ملتا ہے نہ پینے کو۔ بڑی ائر لائنوں میں بھی پینے کے لیے چلّو بھر پانی ملتا ہے۔اور کچھ ہو نہ ہو قبض تو لازم ہو جاتی ہے۔ایک دن رات کا سفر ایک ہفتہ خراب کر دیتا ہے۔ سوسفر کے تذکرے سے جس نامراد کی طبیعت خراب ہونے لگے اگر اسے سفرنامہ پڑھنا پڑے تو خود اندازہ کیجیے کہ اس پر کیا گزرے گی۔اور سفر نامہ بھی یورپ، امریکہ کے رنگین گلی کوچوں کی بجائے …ہمالیہ کے سنگلاخ پہاڑوں کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی خیر نہیں۔قاری نہیں یا سفر نامہ نہیں۔یہ سفر بھی کوئی آسان سفر نہ تھا۔خصوصاًایسے دنوں میںجب کسی کو کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر اُبکائیاں آتی ہوں، جی متلاتا ہو اور نیند بھی ٹھیک سے نہ آتی ہو، سفر سے پرہیز کرنی چاہیے۔چہ جائیکہ اس قدر پر خطر راستوں پر نکل جائیں۔چلو جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ۔ مٹی پالیتے اگر بات سفر تک ہی رہتی۔ مگراتنے مشکل سفر کا روزنامہ بھی لکھ دیا۔ یقیناعام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ مصنف موصوف نے کتاب پر اس قدر محنت کی ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کئی ہفتے لگے ہو ں گے۔ بہرحال جتنی محنت کرنی تھی کر لی اب تو محنت کا میدان بدل گیا ہے۔
کتاب پڑھنے سے پہلے یہ خیا ل مسلسل تنگ کرتا رہا کہ مصنف سفرنامے کی بجائے کچھ اور بھی تو لکھ سکتے تھے۔ مگر جب سفر نامہ پڑھنا شروع کیا تو رائے بدلنا پڑی۔ عظیم ہمالیہ کے حضور‘ مصنف کی پہلی تصنیف ہے۔اور خوبصورت تصنیف ہے۔لفظوں کا چناؤ اور منظر نگاری اپنی مثال آپ ہے۔خطے سے ان کی محبت ان کی تحریر سے ٹپک رہی ہے۔ انہوں نے پورے سفر کو اس . خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے کہ مجھ جیسے ’بیٹھوک‘ انسان کے دل میں پہلی بار سفر کا شوق پیدا ہواہے ۔ بلکہ اب رہ رہ کر یہ خیال ستا تاہے کہ آج تک ان خوبصورت چوٹیوں، گھاٹیوں ادر وادیوں کا سفر کیوں نہیں کیا۔کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ سفر نامہ پڑھنے کے بعد ہمارا کہنا ہے کہ جس نے ہمالیہ نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہمالیہ پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ بس ایک ہماری ہی نظر وں سے اوجھل ہے۔مصنف نے یہ سفر نامہ لکھ کر گویا ہمارے لیے ہمالیہ کو نئے سرے سے دریافت کیا ہے۔ اس سفر میں انہوں نے جو دیکھا اسے قارئین کو دکھانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ اور ہندوکش کی چوٹیوں پر ابھی سنہری کرنیں باقی تھیں۔برف کا گھر حد نظر تک پھیلا ہوا تھا۔اس کی وسعت نظروں میں سمٹنے سے انکاری تھی۔سورج دیوتا کی کرنوں نے سفید و سرد گھر کے درو دیوار پر سرخ چادر ڈال دی تھی۔ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی ، شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔ہر چوٹی شام کی دلہن تھی ۔ ہر ایک کا حسن دوسری سے الگ تھا‘‘۔
’’ہندو کش اور قراقرم ادب سے دم سادھے عظیم ہمالیہ کے دربار میں کھڑے تھے اور اس وقت کی داستان سن رہے تھے۔پیر پنجال ایک معصوم بچہ لگ رہا تھا۔حاجی پیر کے چہرے سے بزرگی جھلک رہی تھی۔ہمالیہ نے کہا اس سطح زمین پر دیگر حیات کے ساتھ بالآخر حضرت آدم ؑ کا ظہور بھی ہوا۔میں نے اپنے قدموں میں بکھرے ان درّوں میں اولاد آدم ؑ کو سرکشی کرتے ،لڑتے مرتے اور پھر ابھرتے دیکھا ہے‘‘۔
’’اچانک نانگا پربت کے عین اوپر نیلے آسمان تلے شب کا پہلا ستارہ نمودار ہوااور اپنی روشنی کی نوکدار کرنیںنانگا پربت پر اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ستارے کی بلندی اپنی جگہ مگر نانگا پربت کے نوکیلے وجود کی قامت اور چمک کے سامنے تارے کی ایک نہ چلی تو آہستہ آہستہ ڈھیروں ستارے اس کی مدد کو نکل آئے…تاروں کی جھلملاہٹ بڑھ رہی تھی۔جھرمٹ کے جھرمٹ کہیں سے نکل کر آسمان پر پھیل رہے تھے۔ضرور یہ ستارے اپنی محفل آباد کرنے کو تھے۔ستاروں کی انجمن تلے نانگا پربت کا منجمد وجود بھی سفید نوکدار جھلملاتا ستارہ بن گیا تھا‘‘۔
مصنف نے چھوٹے چھوٹے اور گمنام علاقوں کا تفصیلاً تعارف بھی کروایا ہے۔ ایسی معلومات بھی شامل کی ہیں جن کے لیے الگ سے ایک کتابچہ لکھا جا سکتا تھا جو سیاحوں کے کام آتا۔مصنف نے قدرتی ماحول کی تباہی کا ذکر بھی جابجا کیا ہے۔اس اعتبار سے ان کی یہ تصنیف سفر نامے سے بڑھ کر ہے۔
ہم پہاڑیے لوگ فطرت کے پڑوسی ہیں۔ فطرت سے جو قربت ہمیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ مگر محسوس اسے جاوید نے کیا ہے۔ برف پوش چوٹیوںپر پڑنے والی کرنیں سورج کی ہوں یا چاند کی ،جاوید نے انہیں دیکھا اور محسوس ہی نہیں کیا ، اپنے اندرجذب بھی کیاہے۔ہمالیہ سے اس کی محبت جسم میں خون کی مانند دوڑ پھر رہی ہے۔لگتا ہے وہ اسی محبت میں گرفتار وہاں تک پہنچا ہے اور اسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنی روئیدادسنائی ہے۔گو وطن کی محبت میں ہم بھی چاک گریباں ہیں مگر سچ پوچھیے توہمالیہ کو کبھی اس نظر سے نہ دیکھ پائے تھے جس نظر سے جاوید نے دکھایا ہے۔ وہ ہمالیہ کے درو دیوار پر دیوانہ وارپھرا ہے۔ دن رات پھرا ہے۔ اس نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سفید ہمالیہ کو چاندنی کا آنچل اوڑھے بھی دیکھا ہے ۔ صبح کاذب کے دھندلکے میںچھپا دیکھا ہے اور اندھیری رات میں اس کے پاؤں کو چھوا ہے۔ اس سے سرگوشیاں بھی کی ہیں، اپنے دل کا حال سنایا ہے، رویا بھی ہے ۔اس نے بوقت سحر ہمالیہ کی چوٹیوں پہ کھڑے ہو کر ہاتھ بھی پھیلائے ہیں اور خدا سے ہمالیہ کی عظمت ، اپنی مٹی کے وقار اور اور اپنی شناخت کی بھیک مانگی ہے۔ وہ ایک ایسا مسافرہے جس کا گریباں چاک ، دامن تار تار اور دل فگار ہے۔ وہ اپنی اس کیفیت کو بیان نہیں کر پایا۔ بیان کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اور جو کچھ وہ بیان نہیں کر پایا دراصل وہی اس کا پیغام ہے۔اس پیغام پر میں بلامبالغہ مصنف کو کھڑے ہو کر سلام پیش کرتا ہوں۔ جاوید ایک عرصے سے لکھ رہا ہے اور جس شوق اور محنت سے لکھ رہا ہے یقینا وہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر کہ رہے گا۔
آزاد کشمیر میں اردو نثر لکھنے والے چند ایک ہی لوگ ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے۔مگر خوشی اس بات کی ہے کہ جو چند ایک ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ایسے ماحول میں نئے لوگوں کا نثرکی طرف متوجہ ہونا خوشی کی بات ہے۔جاوید کا سفر نامہ اس سمت میں اچھی پیش رفت ہے۔تکنیکی اعتبار سے میں کتاب پر کوئی رائے دینے سے اس لیے قاصر ہوں کہ میں تو بچوں کی کاپی بھی چیک نہیں کر سکتا۔ اتنا ضرور ہے کہ اپنی محرومیوں نے دل آنکھ ضرور کھول دی ہے۔ اور یہ آنکھ ایک ہی نظر میں ایسی کھلی آنکھیں دیکھ لیتی ہے۔ جاوید محبت کے راستوں کاکھلی آنکھ والا مسافر ہے۔کھلی آنکھ کے ساتھ زندگی کا سفر کوئی آسان سفر نہیں۔
4/12/2020
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.2 ★★★★★
Based on 8 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
fantastica
Format: Paperback
Una muy buena historia, la conclusión a una muy buena historia
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 24, 2026
★★★★★ 4
Don't listen to the negative reviews. There is so much to love in this story.
Format: Paperback
First off, I would like to say that this is mostly for people who either A) bought vol1 and want to finish the story, and B) fans of not only Batman, but also the "legacy" that he has left behind him. More on that later.
This is the second half of the weekly 26 week story revolving around The former robins, and deals heavily around The Spoiler, Cassandra Cain (batgirl) and Harper Row (bluebird) the main thing I have to say about this story is that it more effectively does what "batman eternal" and "Robin war" we're trying to accomplish. In batman eternal, the story was over 50 issues long, and there were so many times where the story was abysmal because of filler and boring events that made it feel like such a cash grab, and with Robin war, by the end of that story there is almost nothing important that happens, leaving you to feel like you could have went without reading it. Batman and robin eternal not only tells a captivating story, but with important enough events that justify your time and money put into this story. I can whole heartedly recommend this to ANY fan of not only Azrael (very important character in the 90s when knight fall was going on) but also Cassandra Cain (new batgirl up until 2011) and they in my opinion are the highlights of this story because of the justice they are given as comic book characters. We haven't seen them since in the new earth, so it's nice that they got some recognition before rebirth. Hopefully we see them more, but this is also a solid story for the robins as well, each of Batmans pupils gets justice at some point in the story, so I can say a fan of any of them will be pleased. I can say this especially as a Red Hood fan who longs for the day that Jason Tood will finally get a good/solo ongoing series. Now with that said, the art can be inconsistent seeing as how there are more than one of them, and the "big plot twist" shown in this second half can be pretty obvious that "there's more than meets the eye" with the situation, but I rather not give spoilers.
Again This book is MORE THAN WORTH YOUR TIME AND MONEY if you
Like ANY robin
Like Scott Snyders "bluebird"
Like the old ninja looking batgirl
Like Azrael
Like batman stories that don't have batman as the main focus
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 21, 2016
★★★★★ 5
Batman & Robin Eternal
Format: Kindle
Again, what a ride! Glad to see batman back in action. The Robins own this book. Mother is down and out by her own creation. And the world is safe once again. What more could you ask for?!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 20, 2022
★★★★★ 5
Great series
Format: Kindle
Mother was a new and powerful opponent. I hope that some how, some way, she shows again. Not crazy not costumed , just the best of your everyday garden variety brilliant, computer savvy villain.
I liked her.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 27, 2020
★★★★★ 5
5 stars
Format: Kindle
Great conclusion to the series.. with an all-star cast involving the extended Bat family.. reminiscent of the "Battle for the Cowl" and "Return of Bruce Wayne" days in scope and back story.. definitely a must-read!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 16, 2017